60

*بدن اُدھیڑ کے چہرے نہیں بناتے ہم درخت کاٹ کے پنجرے نہیں بناتے ہم*

Spread the love

*غزل*

بدن اُدھیڑ کے چہرے نہیں بناتے ہم
درخت کاٹ کے پنجرے نہیں بناتے ہم

ہمارے ہاتھ سلامت ہیں،ہم کماتے ہیں
پرائے شعر سے لہجے نہیں بناتے ہم

یہاں کدالیں، ہتھوڑے ہیں اور تیشے ہیں
مُعاف کیجیئے کاسے نہیں بناتے ہم

میاں یہ کام بہت لوگ کر رہے ہیں یہاں
گلاب توڑ کے گجرے نہیں بناتے ہم

یتیم بچوں کی آنکھیں جگر کو چیرتی ہیں
بس اِس لئے یہ کھلونے نہیں بناتے ہم

دُکان داری نہیں کر رہے ہیں سو میثم
کسی کی مرضی کے مصرعے نہیں بناتے ہم

میثم علی آغا

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں