52

*سارے تخریب گر لگے ہوئے ہیں ہم بھی مقدور بھر لگے ہوئے ہیں*

Spread the love

*غزل*

سارے تخریب گر لگے ہوئے ہیں
ہم بھی مقدور بھر لگے ہوئے ہیں

آسمانوں کو ڈر لگے ہوئے ہیں
میرے شانوں کو پر لگے ہوئے ہیں

ہم کو جس راہ پر لگا دیا تھا
ہم اسی راہ پر لگے ہوئے ہیں

آپ ہی گھاؤ دے رہے ہیں اور
آپ ہی چارہ گر لگے ہوئے ہیں

پیڑ کاٹو مگر یہ دھیان رہے
اس پہ برگ و ثمر لگے ہوئے ہیں

نائلہ علی

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں