*نظم*

*نظم*

میں نے تجھ کو
دل کی آنکھ سے پرکھا تھا نا
میرے من کے مندر میں جو
ایک اکیلی مورت تھی وہ
بس تیری ہی صورت تھی
لیکن بھول گئی میں پگلی
مورت تو بس
میت کی یاد کا بت ہوتی ہے
بت کا سینہ “سل” ہوتا ہے
بت میں کب اک
جیتے جاگتے
آدم جیسا “دل” ہوتا ہے

تمنا

کیٹاگری میں : نظم

اپنا تبصرہ بھیجیں