64

*ہماری روح میں دکھ ہے طلب ہو تو بتا دینا خوشی کی کب علامت ہے لبوں کا مسکرا دینا*

Spread the love

*غزل*

ہماری روح میں دکھ ہے طلب ہو تو بتا دینا
خوشی کی کب علامت ہے لبوں کا مسکرا دینا

ابھی تک ذائقہ خوابوں کا آنکھوں کو لُبھاتا ہے
مِری آنکھوں کے بدلے میں مجھے سپنے دکھا دینا

مجھے یکسانیت غربت کے اندیشے میں رکھتی ہے
مجھے گر درد بھی دینا تو اوروں سے جدا دینا

جب اپنی ذات کا کاسہ ہی خالی ہو رفاقت سے
تو اِس حالت میں بتلاؤ کسی دُوجے کو کیا دینا

جفا کا ڈھنگ ہے کیسا وفا کا رنگ ہے کیسا
محبت جان لیتی ہے نہیں ممکن دغا دینا

تعلق جب اذیت کا سبب بننے لگے تو پھر
جدا ہو جائیں گے تم سے،ہمیں کُھل کر بتا دینا

اِسی کے نام پر بنیادِ دنیا رکھی خالق نے
محبت زندگی جیسی محبت کو دعا دینا

امر ہونے کی خواہش تو سبھی کے دل میں ہوتی ہے
غزل کے رُوپ میں صاحب مجھے بھی گنگنا دینا

کنول اتنی گزارش ہے اگر تم سے یہ ہو پائے
چراغِ آرزو راہِ محبت میں جلا دینا

ریحانہ کنول

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں