58

*لاکھ اِس درد کی دھائی دی میری آواز کب سنائی دی*

Spread the love

*غزل*

لاکھ اِس درد کی دھائی دی
میری آواز کب سنائی دی

اِس طرف ایک شخص مل نہ سکا
اُس طرف اُس نے خدائی دی

میں نے بھیجے اُسے وفاؤں کے پھول
اُس نے بدلے میں بے وفائی دی

سانس چبھنے لگے تھے سینے میں
جسم سے جان کو رہائی دی

جس کو رکھا تھا اپنی جاں سے عزیز
اس نے تہمت گھڑی ،جدائی دی

اس نے ہر بار شک کیا مریم
میں نے ہر بار اسے صفائی دی
ڈاکٹر مریم ناز

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں