75

*زینٹیک: کینسر کا سبب بننے والی ادویات کی فروخت پر پابندی*

Spread the love

*زینٹک:کینسرکا سبب بننے والی ادویات کی فروحت پر پابندی*

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر کی دوا ساز کمپنیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ زینٹیک سمیت خام مال ’رانیٹیڈائن‘ سے تیار کی جانے والی ادویات کی فروخت روک دیں۔

ڈریپ الرٹ کے مطابق رانیٹیڈائن (Ranitidine) پر مشتمل کچھ مصنوعات میں نائٹروسامین کے اندر موجود این-نائٹروسوڈیمیتھیلایمین (N-Nitrosodimethylamine) نامی کیمکل کے نشانات ملے ہیں جو ممکنہ طور پر سرطان پیدا کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر ابتہاج علی نے بتایا کہ یہ الرٹ اسی کیمیکل کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ تاہم کافی عرصے سے اس پر تحقیق کی جاری ہے کیونکہ یہ پہلے بھی کچھ ادویات میں پایا گیا ہے۔

‘نائٹروسوڈیمیتھیلایمین’ ایک ایسا کیمیکل ہے جو کھانے کی کچھ اشیا میں بھی ملتا ہے جیسا کہ دھواں دیا گیا گوشت یا پھر دودھ سے بنی اشیا۔ اس کیمیکل کے نشانات انسانوں اور جانوروں میں بھی بہت کم مقدار میں پائے جا سکتے ہیں۔

زین ٹیک کیوں بند کی گئی؟
ڈاکٹر ابتہاج علی کے مطابق زین ٹیک کا شمار ’اوور دی کاؤنٹر ڈرگ‘ میں کیا جاتا ہے یعنی ایسی دوا جس کی خریداری کے لیے ڈاکٹر کا نسخہ دکھانا ضروری نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر ابتہاج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا میں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوائی با آسانی خریدی جا سکتی ہے جبکہ امریکہ اور یورپ میں نسخے کے بغیر دوائی خریدنا مشکل ہے۔

’زینٹیک معدے میں تیزابیت، السر اور متعلقہ تکلیف کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ انسانی معدے میں ایسے خلیات موجود ہوتے ہیں جو تیزاب پیدا کرتے ہیں اور یہ نظام ہضم میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اگر معدے میں تیزابیت کی مقدار بڑھ جائے تو زین ٹیک کا استعمال تیزاب کی مقدار کو کم کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’جب کوئی شخص کسی دوائی کا زیادہ استعمال شروع کر دیتا ہے اور خاص طور پر جس دوائی میں آلودہ کیمیکل جیسا کے نائٹروسوڈیمیتھیلایمین شامل ہو تو انسانی جسم اس کیمیکل کی مخصوص مقدار ہی برداشت کرتا ہے۔‘

’اگر آلودہ کیمیکل کی مقدار جسم میں بڑھ جائے تو وہ کینسر بنا سکتا ہے۔ ایف ڈی اے کی طرف سے کی جانے والی تحقیق میں زین ٹیک میں آلودہ کیمیکل کی مقدار زیادہ پائی گئی جس کے باعث اس کے استعمال کو روکا گیا ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈاکٹروں کی طرف سے تجویز کی جانے والی دوائیوں کی فہرست میں زین ٹیک 50ویں نمبر پر آتی ہے تاہم ایف ڈی اے نے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسے استعمال نہ کریں۔

ادویات کی روک تھام کے لیے الرٹ کہاں سے جاری ہوتے ہیں؟
ڈاکٹر سلمان کاظمی نے بتایا ’ایف ڈی اے‘ کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے اور میڈیکل کے شبعے میں زیادہ تر ہونے والی تحقیقات یا تو ان کی جانب سے کی جاتی ہیں یا پھر یورپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) کی جانب سے کی جاتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی میڈیکل کے شبعے میں ایسی کوئی تحقیق سامنے آتی ہے تو عموماً ایسے الرٹ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔ جبکہ یہ الرٹ (فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن) ایف ڈے اے کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔

’میرے خیال میں یہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو جاری کرنا چاہیے تھا تاکہ لوگوں تک تصدیق شدہ الرٹ پہنچتا کیونکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو دنیا کے تمام ممالک میں تسلیم کیا جاتا ہے۔‘

پاکستان میں ڈریپ کے پاس بھی عالمی معیار کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود ہے مگر ڈریپ کی جانب سے جو بھی نوٹس آتا ہے اسے بغیر تحقیق اور ٹیسٹ کیے جاری کر دیتے ہیں۔

ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عاصم رؤف نے بتایا کہ ڈریپ نے مارکیٹ میں فروخت ہونے والی ایسی دوائیاں جن میں این-نائٹروسوڈیمیتھیلایمین کا استعمال ہوتا ہے، اس کی فروخت روکنے کے لیے انتباہ جاری کیا ہے اور مینوفیکچرنگ کرنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز کو خط لکھے گئے ہیں۔

زین ٹیک کی جگہ کون سی دوائی استعمال کریں؟

چیئرمین پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن محمد عثمان کے مطابق ’زین ٹیک میں استعمال ہونے والا خام مال 80 کی دہائی میں پاکستان میں تیار کیا جاتا تھا۔‘

مگر اب خام مال زیادہ تر انڈیا اور چین میں بنتا ہے۔ ان کی جانب سے غیرمعیاری مواد کے استعمال کی وجہ سے خام مال میں ایسے کیمیکل پائے جا رہے ہیں جو “کارسینوجینک” ہے۔ مطلب جس سے کینسر بن سکتا ہے”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈریپ کی طرف سے فارمسیز اور مینوفیکچرز کو خبردار کرنے کے لیے یہ نوٹس دیا گیا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں جب بھی کسی دوائی کو روکنے کے لیے نوٹس جاری ہوتا ہے تو اس کی روک تھام کے لیے اخباروں اور ٹیلی ویژن پر اشتہارات دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو دوائی کے استعمال پر ہدایات جاری ہوتی ہیں جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں کیا گیا۔

محمد عثمان نے مزید بتایا کہ زین ٹیک کے متبادل بہت سی اور ادویات جیسا کہ ’رائیزک‘ یا پھر ’سماٹیڈین‘ جیسی دوائیاں مارکیٹ میں موجود ہیں جو کم قیمت میں معدے کی تیزابیت اور دیگر مسائل کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے زین ٹیک کی فروخت بند ہونے سے کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’تاہم ڈریپ کو چاہیے کہ دوسرے مالکوں سے آنے والے ادویات کے خام مال، خصوصًا انڈیا اور چین سے درآمد شدہ خام مل کی جانچ کے بعد ہی اسے فارما کمپنیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں