52

*مجھ سے یہ کہہ رہا ہے چوکھٹ پہ رکھا ہوا چراغ حجرۂ دل میں روشنی کے لیے بھی جلا چراغ*

Spread the love

*غزل*

مجھ سے یہ کہہ رہا ہے چوکھٹ پہ رکھا ہوا چراغ
حجرۂ دل میں روشنی کے لیے بھی جلا چراغ

تیرے وجود میں جلا ہی نہیں پیار کا چراغ
اور میں نے تمام عمر بجھنے نہیں دیا چراغ

دن میں بھی راج ہے اندھیرے کا کہیں اماں نہیں
آؤ جلائیں مل کے ہم شہر میں جا بجا چراغ

پیش نظر ہے روشنی خوف ہوا ذرا نہیں
ایک بجھے تو میں جلا لیتا ہوں دوسرا چراغ

نوک سناں پہ تھا سر ابن علی رکھا ہوا
شام ہوئی تو دشت میں کرنے لگے عزا چراغ

دیکھ مجھے بجھا بجھا رہنے لگا ہوں بے وجہ
جب سے بنا ہے ہم نوا میرا بجھا ہوا چراغ

…………….
تیغ ہوا کے سامنے ظلمت شب کو چیرتا
ہم کو بھی دے رہا ہے جنگ لڑنے کا حوصلہ چراغ

احمد راجا

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں