47

*جنگ اب جیت سکوں پہلے سی ہمت بھی نہیں اور قسمت میں مری جامِ شہادت بھی نہیں *

Spread the love

*غزل*

جنگ اب جیت سکوں پہلے سی ہمت بھی نہیں
اور قسمت میں مری جامِ شہادت بھی نہیں

ایک ویران حویلی میں اُگا پودا ہوں
میری چھاؤں کی کسی شخص کو حاجت بھی نہیں

چند اک پھول سرِ باغ نہیں بھی کھلتے
جیسے محفل میں اُسے ہنسنے کی عادت بھی نہیں

فکر لاحق ہے مجھے اُس کے ہی مستقبل کی
ایک لڑکی کہ جسے میری ضرورت بھی نہیں

ایک انجان سرائے میں بسر ہے میرا
جہاں مہمان نوازی کی روایت بھی نہیں

رات دن میں بھی مریضوں میں گھرا رہتا ہوں
اُس کو اب وقت نہ ملنے پہ شکایت بھی نہیں

میں کہ اک زخم ہوں اور وہ بھی عزا دار کا زخم
مجھ کو رِسنا نہیں ، بھرنے کی اجازت بھی نہیں

ڈاکٹر وقار خان

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں