51

*جس دیس سے ماؤں بہنوں کو *اغیار اٹھا کر لے جائیں*

Spread the love

*جس دیس سے ماؤں بہنوں کو*

*اغیار اٹھا کر لے جائیں*

*جس دیس سے قاتل غنڈوں کو*

*اشراف چھڑا کر لے جائیں*

*جس دیس کی کورٹ کچہری میں*

*انصاف ٹکوں پر بکتا ہو*

*جس دیس کا منشی قاضی بھی*

*مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو*

*جس دیس کے چپے چپے پر*

*پولیس کے ناکے ہوتے ہوں*

*جس دیس کے مندر مسجد میں*

*ہر روز دھماکے ہوتے ہوں*

*جس دیس میں جاں کے رکھوالے*

*خود جانیں لیں معصوموں کی*

*جس دیس میں حاکم ظالم ہوں*

*سسکی نہ سنیں مجبوروں کی*

*جس دیس کے عادل بہرے ہوں*

*آہیں نہ سنیں معصوموں کی*

*جس دیس کی گلیوں کوچوں میں*

*ہر سمت فحاشی پھیلی ہو*

*جس دیس میں بنت حوا کی*

*چادر بھی داغ سے میلی ہو*

*جس دیس میں آٹے چینی کا*

*بحران فلک تک جا پہنچے*

*جس دیس میں بجلی پانی کا*

*فقدان حلق تک جا پہنچے*

*جس دیس کے ہر چوراہے پر*

*دو چار بھکاری پھرتے ہوں*

*جس دیس میں روز جہازوں سے*

*امدادی تھیلے گرتے ہوں*

*جس دیس میں غربت ماؤں سے*

*بچے نیلام کراتی ہو*

*جس دیس میں دولت شرفاء سے*

*نا جائز کام کراتی ہو*

*جس دیس کے عہدیداروں سے*

*عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں*

*جس دیس کے سادہ لوح انساں*

*وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں*

*اس دیس کے ہر اک لیڈر پر*

*سوال اٹھانا واجب ہے*

*اس دیس کے ہر اک حاکم کو*

*سولی پہ چڑھانا واجب ہے*
فیض احمد فیض

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں