76

*زلزلے کیوں آتے ہیں*

Spread the love

*زلزلےکیوں آتے ہیں*

حضرت امّاں عائشہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہ سے کسی نے پوچھا زلزلے کیوں آتے ہیں؟ آپ رضی اللہُ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ عورتیں غیر مردوں کیلئے خوشبو استعمال کریں، جب عورتیں غیر محرم مردوں کے سامنے ننگی ہونے میں جھجھک محسوس نہ کریں یعنی زنا عام ہو جائے۔ جب شراب اور موسیقی عام ہو جائے تو زلزلے کی توقع رکھنا۔

زلزلوں کا کثرت سے آنا قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، زمانہ آخرت میں زلزلوں کی کثرت ہوجائے گی۔

٭ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَکْثُرَ الزَّلَازِلُ: (بخاری ج۴،ص۱۴۶)

”قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ علم (شرعی) اٹھالیا جائے اور زلزلوں کی کثرت ہوجائے“۔

٭ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ: وَبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوَتَانٌ شَدِيدٌ، وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ: (مسند احمدج۳۴ص۳۱۷رقم:۱۶۳۵۰)

”قیامت کے قریب بہت زیادہ اموات ہوں گی اور اس کے بعد زلزلوں کے سال آئیں گے“۔

نہ صرف یہ کہ زلزلوں کی کثرت ہوجائے گی بلکہ جگہ جگہ لوگ زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، سرخ آندھیاں حتیٰ کہ آسمان سے پتھروں کی بارش بھی ہونے لگے گی، لوگ بندر و خنزیر بنادیئے جائیں گے۔

٭ يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَسْفٌ، وَمَسْخٌ، وَقَذْفٌ:(ابن ماجۃج۱۲ص۷۳رقم:۴۰۵۰)

”میری امت کے آخری حصے میں خسف (زمین میں دھنسنا)، مسخ (بندر وخنزیر بننا) اور قذف (پتھروں کی بارش) ہوگا“۔

لیکن ایسا ہوگا کیوں؟ ایسی کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے یہ سب کچھ اس امت میں ظہور پذیر ہوگا؟ چنانچہ چند بڑی وجوہات ہیں جو ان ہلاکت خیز واقعات کے ظہور پذیر ہونے کا سبب بنیں گی اور ان وجوہات کا پایا جانا دراصل امت مسلمہ کی جانب سے ایک ”فریضہ“ کی عدم ادائیگی کی بناء پر ہوگا۔

وہ بڑی بڑی وجوہات جوکہ ان زلزلوں، طوفانوں، آندھیوں، زمین میں دھنسا دیئے جانے اور بندر و خنزیر بنائے جانے کا سبب بنیں گی۔

ان کو احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یوں بیان کیا گیا: (يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، إِذَا ظَهَرَتِ الْقِيَانُ وَالْمَعَازِفُ، وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ) (صحیح الجامع الصغیرج۱۶ص۳۶۹رقم:۷۷۲۲)

”اس امت میں خسف (زمین میں دھنسنا)، مسخ (بندر وخنزیر بننا) اور قذف (پتھروں کی بارش) ہوگا اور یہ اس وقت ہوگا جب گانے والیاں اور آلات موسیقی اور شرابیں کھلے عام پی جائیں گی“۔

٭ لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُعْزَفُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ، وَالْمُغَنِّيَاتِ، يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ (ابن ماجۃج۱۲ص۲۶رقم:۴۰۱۰)

”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے، اس کا نام بدل کر اور ان کے سروں پر گانے باجے بجائیں جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسادے گا اور ان میں سے کچھ کو بندر اور سور بنادے گا“۔

٭ بقیۃ وأبو المغیرۃ عن أبی بکر بن أبی مریم عن حجر بن مالک الکندی عن قبیصۃ بن ذؤیب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: (لَيُؤْفَكَنَّ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ قِرَدَةً وَقَوْمٌ خَنَازِيرَ، وَلَيُصْبِحَنَّ فَيُقَالُ: خُسِفَ بِدَارِ بَنِي فُلَانٍ، وَدَارِ بَنِي فُلَانٍ، وَبَيْنَمَا الرَّجُلَانِ يَمْشِيَانِ يُخْسَفُ بِأَحَدِهِمَا ” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَبِمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «بِشُرْبِ الْخُمُورِ، وَلِبَاسِ الْحَرِيرِ، وَالضَّرْبِ بِالْمَعَازِفِ وَالزِّمَارَة) (الفتن لنعیم بن حماد،ج:۲ص:۶۱۰،رقم الحدیث:۱۶۹۱)

آج مسلمان معاشروں میں کھلے عام گانا بجانے کی محفلیں، پھر اس میں ام الخبائث یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام اور اس کے نتیجے زنا کی کثرت، اب فیشن شوز کے نام پرحیاء وعفت کا جنازہ نکالنا، اس بات کی علامت ہے کہ امت اپنے سب سے بڑے فریضے سے غافل ہوچکی ہے۔ وہ فریضہ ہے ”نفاذِ شریعت“۔ کیونکہ ان برائیوں کا کھلم کھلا ظہور ہی جب ہوتا ہے کہ جب زمین پر اللہ کا قانون جاری و ساری نہ ہو اور حقیقت یہ ہے کہ آج پوری دنیا میں کہیں بھی ”حدود شریعت“ کا نفاذ نہیں ہیں اور ستم بالائے ستم جو کوئی بھی اس کے نفاذ کی بات کرتا ہے تو زمین اس پر تنگ کردی جاتی ہے، اس کے لئے جسم وروح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے اور اس کے مقدر میں سوائے آتش و آہن کے کچھ اور نہیں ہوتا۔

مملکت خداد پاکستان کی کیفیت بھی اس حوالے سے کچھ مختلف نہیں لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ وہ ملک جو کہ ”اسلام“ کے نام پر اور ”پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ اللہ !“ کا نعرہ لگاکر حاصل کیا گیا تھا، وہاں چھوٹی سی چھوٹی برائی سے لے کر بڑی سے بڑی برائی آزادانہ کی جارہی ہے، بے حیائی وفحاشی کا طوفان نوجوان نسلوں کا بربادی کے آخری دہانے پر لے جاچکا ہے، کنسرٹس، فیشن شوز اور پھر اس کے ساتھ رقص و سرور اور شراب وکبا ب کی محفلیں اور ان تمام باتوں کا لازمی نتیجہ ”زناء کی کثرت“ ہمارے معاشرتی اقدار اور دینی حمیت کو دیمک کی طرح چاٹ چکی ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ پاکستان میں ”حدود اللہ“ کا عدم نفاذ ہی ان تمام برائیوں کے وجود کا سبب ہے۔ لیکن غضب بالائے غضب کہ جب بھی کسی نے “حدود اللہ” کے نفاذ کی حقیقی معنوں میں کوشش کی تو اس کے حصے میں سوائے مال واولاد کے بکھرنے، گھروں کے اجڑنے، کھیتوں کے برباد ہونے اور آگ و خون میں نہانے کے سوا کچھ نہ ملا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز زلزلے کے شدید جھٹکوں نے آزاد کشمیر، اسلام آباد اور گردنواح نواح کو جھنجھوڑ کر رھ دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مری، مومن کوٹ، سانگلہ ہل، جہلم ، کالا باغ ، پشاور، لاہور، ایبٹ آباد اور خیبر میں زمین تھرا اٹھی۔

زلزلے کی شدت 5.8 تھی اور اس کا مرکز جہلم کے 5 کلومیٹر شمال مشرق جبکہ پنڈی سے 80 کلومیٹر جنوب میں تھا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث اب تک 24 افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

میر پور جاتلاں سے کھڈی شریف تک سڑک نہر میں چلی گئی ہے جس کے باعث سڑک پر موجود درجنوں گاڑیاں اور بسیں نہر میں اور زلزلے کے باعث بننے والے گہرے کھڈوں میں جا گری ہیں۔ زلزلے کے بعد علامہ اقبال ایئر پورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو کارروائیوں کا حکم دیدیا ہے۔ اسٹیٹ ڈیساسٹر منیجمنٹ ( ایس ڈی ایم اے) کے مطابق پاکستان میں زلزلے کے آفٹر شاکس کا خدشہ ہے جس سے مزید نقصان کا بھی اندیشہ ہے جس کے باعث سکیورٹی سمیت متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں