170

سُنو اے چاند سی لڑکی

Spread the love

سُنو اے چاند سی لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سُنو اے چاند سی لڑکی
ابھی تُم تتلیاں پکڑو
کہ پھر گڑیوں سے کھیلو تم
کہ پھر معصوم سی آنکھوں سے ڈھیروں خواب دیکھو تم
فراز و فیض و مُحسن کی
کتابیں مت ابھی پڑھنا
یہ سب لفظوں کے ساحِر ہیں
تمہیں اُلجھا کے رکھ دیں گے
تمہیں معلوم ہی کب ہے
محبت کے لبادے میں ہوس اور حرص ہوتی ہے
یہ انسانوں کی دُنیا ہے
مگر اِن سے کہیں بڑھ کر
یہاں وحشی درندے ہیں
وہ وحشی جن کی آنکھوں سے
چھلکتے پیار کے پیچھے
بدن کی بھوک ہوتی ہے
ابھی کچی کلی ہو تم
ابھی کانٹوں سے مت کھیلو
ابھی اپنی ہتھیلی پر کسی کا نام مت لکھو
ابھی اپنی کتابوں میں گلابی پھول مت رکھو
ابھی شعروں میں مت اُلجھو
ابھی مت ڈائری لکھو ابھی مت شاعری لکھو
ابھی جگجیت کی غزلوں کی گہرائی میں مت جاؤ
ابھی گُلزار کی نظموں کی افسردہ سی سطروں میں
اُلجھ کر ہونٹ مت کاٹو
ابھی تو عمر باقی ھے
ابھی خود کو سنبھالو تم
ابھی بس مُسکراؤ تم
ابھی تم عشق مت سوچو
ابھی سب بھول جاؤ تم
سُنو اے چاند سی لڑکی
سُنو اے چاند سی لڑکی

میثم علی آغا

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “سُنو اے چاند سی لڑکی

  1. السلام عليكم، محترم
    امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے، ماشاءاللہ بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے آپ نے میں پہلی مرتبہ یہاں آیا ہوں ، اور جی خوش ہو گیا سنو چاند سی لڑکی نظم پڑھی، مثیم صاحب کی بہت اچھا لگا،
    اپنی ایک غزل اس امید کے ساتھ لایا ہوں کہ آپ محبت فرمائیں گے،
    کیا پیاس کا عالم تھا پیڑوں پہ اداسی تھی
    بے حال پرندوں کے چہروں پہ اداسی تھی

    اک وقت کا نوحہ تھا ٹھہرا ہوا ہونٹوں پر
    اک ہجر میں پتھرائی آنکھوں پہ اداسی تھی

    بھیگا ہوا کاغذ تھا، اک لہر تھی اشکوں کی
    کمرے میں خموشی تھی شعروں پہ اداسی تھی

    تھی عمر محبت کی اُس پر تھی جدائی بھی
    آنکھوں میں سمندر تھا، لہروں پہ اداسی تھی

    اک شخص سرِ ساحل بانہوں میں لئے بانہیں
    تھا محوِ سخن لیکن ہونٹوں ۔پہ اداسی تھی

    راشد قیوم انصر

اپنا تبصرہ بھیجیں