157

*مجھ کو کتنا سوچتی ہو گی:میثم علی آغا*

Spread the love

*مجھ کو کتنا سوچتی ہو گی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے پچھلے پہر میں اکثر
جب بستر پر لیٹے لیٹے
اُس کو نیند نہ آتی ہو گی
پگلی تھک سی جاتی ہو گی
میری یادوں سے تنگ آ کر
ٹیبل لیمپ جلاتی ہو گی
بستر سے اُٹھ جاتی ہو گی
اور پھر ننگے پاؤں چلتے
کھڑکی کے پردے سِرکا کر
جب بھی کھڑکی کھولتی ہو گی
مجھ کو کتنا سوچتی ہو گی
نرم ہوا کے تازہ جھونکے
جب زلفوں سے کھیلتے ہوں گے
مجھ کو کھو دینے کے صدمے
احساسات کو چھیڑتے ہوں گے
اپنی زلفوں کو سلجھاتی
دور سڑک پر آتی جاتی
روشنیوں کو تکتے تکتے
ماضی میں کھو جاتی ہو گی
اک اک منظر میں جب کھو کر
سچائی کو کھوجتی ہو گی
مجھ کو کتنا سوچتی ہو گی
خواب جزیروں جیسی آنکھیں
جب یادوں سے بھرتی ہوں گی
اُس کی چھاؤں جیسی پلکیں
میری باتیں کرتی ہوں گی
قربت کے سب مہکے لمحے یاد اُسے جب آتے ہوں گے
سوہنے نین کٹورے اُس کے اشکوں سے بھر جاتے ہوں گے
ٹِپ ٹِپ گرتے اشکوں کو جب
آنچل سے وہ پونچھتی ہو گی
سوچ رہا ہوں پاگل لڑکی
مجھ کو کتنا سوچتی ہو گی

میثم علی آغا

کیٹاگری میں : نظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں