45

*گُلاب تھی نہ گُلوں کے قرین لڑکی تھی مگر وہ شہر کی سب سے حسین لڑکی تھی*

Spread the love

*غزل*

گُلاب تھی نہ گُلوں کے قرین لڑکی تھی
مگر وہ شہر کی سب سے حسین لڑکی تھی

میں پوچھتا ہوں محبت میں فیل کیسے ہوئی
وہ اِس سکول کی سب سے ذہین لڑکی تھی

طواف کرتی نگاہیں وہیں ٹھہر جاتیں
بہت نفیس بہت خوش جبین لڑکی تھی

اور اُس کے بعد تو فلمیں فلاپ ہونے لگیں
تماش بینوں کا شاید وہ سین لڑکی تھی

گواہی دیتے ہیں لاہور کے گلی کوچے
یہیں کہیں وہ محبت نشین لڑکی تھی

میثم علی آغا

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں