44

*”یار کو ھم نے جا بجا دیکھا کہیں ظاھر ، کہیں چھپا دیکھا”*

Spread the love

*غزل*

یار کو ھم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاھر ، کہیں چھپا دیکھا

کہیں ممکن ھُوا ، کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

کہیں بولا بلیٰ وہ کہہ کے اَلست
کہیں بندہ ، کہیں خدا دیکھا

کہیں بیگانہ وش نظر آیا
کہیں صُورت سے آشنا دیکھا

کہیں وہ بادشاہِ تخت نشیں
کہیں کاسہ لیے گدا دیکھا

کہیں عابد بنا ، کہیں زاھد
کہیں رِندوں کا پیشوا دیکھا

کہیں رَقاص اور کہیں مَطرب
کہیں وہ ساز باجتا دیکھا

کہیں وہ در لباسِ معشُوقاں
بر سرِ ناز اور ادا دیکھا

کہیں عاشق نیاز کی صُورت
سینہ بریاں و دِل جلا دیکھا

*”شاہ نیاز”*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں