56

*تحریر* ندیم اصغر*

Spread the love

گزرگاہِ حیات سےتلخ رویوں کے کیکر کاٹنا، میٹھے لہجوں کی بیریاں بونا اور پھر تنقید کے پتھر برداشت کرنا لکھاری خوب جانتے ہیں. برفاب لفظوں کو لہو کی گرمی سے گوندھ کر، لاشعور کے نطق کی گرہ کھلنے کے بعد جب چاک سے کوئی وجود اترتا ہے تو شاہکار بنتا ہے. خوابشار سے نیندوں کی کھیتی سیراب کرتا شاعر سیاچن کی بلندیوں سے اترتا پاتال میں چھپے سخن خزانے ڈھونڈتا ہوا اپنی ہستی کو تلاشنے میں سرگرداں نظر آتا ہے.
ایسا ہی ایک باکمال شاعر شہزاد نیر تیشہء قلم سے آنکھوں کے سوکھے خوابشار کو پھر سے رواں کرنے کی تگ و دو میں آنکھ کے بند غاروں کے دھانے کھولنے میں مگن ہے.
شہزاد نیر خامشی کا سکوت توڑے بغیر زندگی کی سجی دکان سے اپنے حصے کے دکھ سکھ جھولی میں بھرتاہے اور کسی جامد لمحے میں اپنی حسیات کی روشنائی قرطاس پہ انڈیل دیتا ہے.
رشتوں کی جگالی کرنے کی بجائے یہ شخص صاف صاف کہتا ہےکہ….

آپ دل جوئی کی زحمت نہ اٹھائیں، جائیں
رو کے بیٹھا ہوں نہ اب اور رلائیں، جائیں

زندگی سے کبھی کبھی ایسی بےزاری تقریباً ہرانسان میں در آتی ہے کہ وہ چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ

اتنا سانسوں سے خفا ہوں کہ نہیں مانوں گا
لوگ رو رو کے نی اب مجھ کو منائیں، جائیں

آپ پھر لے کے چلے آئے ہیں دین و دنیا
اب مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے جائیں جائیں

اس کتاب میں آپ کو سکوت کے سکون کی کمائی لٹتی نظر آئے گی اور اس پہ فصیلِ ضبطِ غم منہدم ہوتی دکھائی دے گی. دشت میں سنتِ قیس دہراتا یہ شاعر کہیں ٹھوکر کھا کر گر جائے تو اپنوں کا انتظار آنکھوں میں اشک بن کر چمک اٹھتا ہے اور ضد کا پتھر اس کی چھاتی پر یوں آن گرتا ہے کہ اٹھنے نہیں دیتا.
کثیر جہتی کی غلام گردش میں بھٹکتا یہ شاعر کبھی آپ کو محبوب کے بالوں میں سجا پھول لگے گا تو کہیں اپنوں کی اپنائیت سے تہی دامن ملے گا. کہیں زندگی کے فلسفہ ء ضرورت پہ بحث کرتا نظر آئے گا تو کہیں اس غم پہ غمگین کہ اس کو پہچانا نہیں جا سکا.
میری دعا ہے کہ پیارے شاعر کا نیند سے رشتہ بحال رہے اور آنکھوں کا ” خوابشار” کبھی سوکھ نہ پائے.

ندیم اصغر
23.12.2018

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں