51

*دل دھڑکتا نہیں دہکتا ہے ہجر دھڑکن میں جب سسکتا ہے* فرح خان*

Spread the love


*غزل*
دل دھڑکتا نہیں دہکتا ہے
ہجر دھڑکن میں جب سسکتا ہے

تیرگی لب پہ آ ٹھہرتی ہے
اور آنکھوں میں غم چمکتا ہے

بین کرتی ہے صبر کی دیوار
عکس آئینے میں ابھرتا ہے

ایک مدت سے درد بستر پر
رات بھر فاصلہ سلگتا ہے

جاگ جاتی ہوں جب دبے پاؤں
دل گلی سے کوئی گزرتا ہے

کیسے کم ہو گی پیاس کی الجھن
صبر پانی سے گر. الجھتا ہے

رات پچھلے پہر زمیں پہ فرح
آسماں سے خدا اترتا ہے

فرح خان

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں