37

*شاعری*

Spread the love

چک چتالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے جیسیی کوئی گڑیا تھی کہاں میلے میں
میں بھی جاتا تو اداسی میں پلٹ آتا تھا

تم وہ گڑیا ہو جسے گاؤں کے میلے بچے
چھونے لگتے تھے تو میں چھین کے لے جاتا تھا

مجھ کو اس بار کتابیں نہیں گڑيا لے دیں
چھوٹا بچہ تھا مگر ماں کو میں سمجھاتا تھا

اس کو رخصت بھی جنازے کی طرح کرتے تھے
شہر جاکر کوئی واپس تو نہیں آتا تھا

احمد عطاءاللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں