28

*خوابشار۔۔۔۔۔شہزاد نیر کا تخلیقی رجحان ایک سرسری جائزہ*شاہد فیروز*

Spread the love

خوابشار۔۔۔۔۔شہزاد نیر کا تخلیقی رجحان
ایک سرسری جائزہ

میں پہلے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں کہ جدت اور کلاسیکیت میں فرق فکری لفظی اور اسلوبی سطح پہ جانچا جاتا ہےاور یہی تین عناصر ہیں جو تخلیق کی بنیاد بنتے ہیں۔
ایک یاد رہ جانے والا شعر فکری اور ساختی ہر دو سطح پہ معیاری ہوتا ہے اور یہ معیار جتنا بلند ہوگا شعر یا فن پارہ اتنا ہی بڑا کہلائے گا
شعر کا اپنے معروض سے جڑا ہونا اور لفظیات کا جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا نئے پن کے لئے بہت لازمی ہے
ورنہ ہم کلاسیک شعرا کا مطالعہ کریں تو ان کے ہاں مضامین کا ایک جہان آباد ہے ۔زیادہ کو نہ پڑھیں خدائے سخن حضرت میر کو دقتِ نظری سے دماغ کو بیدار رکھ کر پڑھ لیں آپ پہ یہ آشکار ہوگا کہ وہ شاید آئندگان کے لئے کہنے کو کچھ چھوڑ کر نہیں گئے لیکن ہر بڑا تخلیق کار تمام تر امکانات کو دیکھتے ان کا اظہار کرتے ہوئے جو شے نہ چاہتے ہوئے بھی چھوڑ جاتا ہے وہ ہے آئندہ وقت جس میں اس نے خود کو فکری وجود کے طور پہ تو رکھنا ہوتا ہے لیکن جسمانی وجود میں نہیں رہتا۔
ہر وقت کی اپنی ضرورتیں اور تقاضے ہوتے ہیں طرز احساس طرزِ فکر زندگی گزارنے کا ڈھب اور بودو باش میں ردو کد جاری رہتا ہے جو شاعر یا تخلیق کار ان عوامل کو سمجھ لیتا ہےاور اپنے ماحول سے فکر،لفظ اور اسلوب کشید کرتا ہےوہ رفتگاں سے جدا رنگ ڈھونڈنے اور متعارف کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہےاور جو اس راز سے پردہ نہیں ہٹا پاتا وہ ماضی کی بھول بھلیوں میں ہی گول گول چکر کاٹتا چکا جاتا ہےاور ایسے شعرا کی کثیر تعداد ہر دور میں ہوتی ہے جن کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا حتی کہ اپنا حال بھی نہیں مسقبل تو بہت دور کی بات ہے
ان کا حال کچھ ایسا ہوتا ہے

رفتگاں سنا چکے ہماری داستاں
ہم سنا رہے ہیں ان کے عہد کی غزل
ش ف
مندرجہ بالا تمہید کا مقصد شہزاد نیر کی کتاب خوابشار پی چند حرف لکھنا تھا شہزاد نیر کی اب تک آنے والی تمام کتب میری نظر سے گزری ہیں جنہیں میں نے ٹھہر ٹھہر کر اور تسلی سے پڑھا ہے اور شہزاد نیر کے فکری اور لسانی نظام کو جھنگ کی کوشش بھی کی ہے۔یوں بھی ہوا کہ مجھے شہزاد کی نظموں میں موجود پیغامات اور موضوعات کو تلاش کر کے بھی دینا پڑا کی کسی کو شہزاد پہ تھیسز لکھنا تھا اس طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ایک عام قاری سے ذرا ہٹ کر ناقدانہ نظر سے ان کتب کو پڑھا ہے چاک سے اترے وجود ،برفاب،گرہ کھلنے تک اور اب خوابشار ان چاروں کتب کو جب آپ ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو آپ پہ یہ بات شدت سے عیاں ہوتی ہے کہ شہزاد نیر نے اپنا سفر جدت سے نیم جدید اور پھر کلاسیکیت کی طرف طے کیا شہزاد نیر کے جدید لب و لہجے کی جو اڑان چاک سے اترے وجود اور برفاب میں ہے وہ دیگر دونوں کتب میں کلاسیکی کی جانب محوِ پرواز ہے
خوابشار جہاں وقت کے ساتھ لسانی حوالے سے اعلیٰ مقام پہ فائز ہے اور صاحبِ کتاب کے کہنہ مشق شاعر ہونے کا پتا دیتی ہے وہاں یہ بات بھی آشکار کرتی ہے کہ شہزاد کو لفظوں کے ساتھ کھیلنا آگیا ہے اسے یہ ادراک ہوچکا ہے کہ لفظ کی حرمت کیا ہے اور کہاں کسے استعمال کرنا ہے لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ اس ادراک نے شہزاد کو جدت کی طرف جست لگانے کی بجائے کلاسیکیت کی جانب گامزن کردیا ہے۔
شہزاد نیر ان شعرا میں سے ہے جن کو ایک سے زائد علوم ہر دسترس ہے اور جو جدید ادب اور جدید عالمی ادب ،تنقید تاریخ فلسفہ اور سائنس سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور کسی بھی موضوع پہ مدلل گفتگو کرسکتے ہیں لیکن اس کتاب میں شہزاد نیر نے ان علوم کو اس سطح پہ خود پہ حاوی نہیں کیا کہ وہ نعرے لگانا شروع کردے یا اس کا بیانیہ عامیانہ ہوجائے بلکہ شہزاد نے انتہائی چابک دستی سے ہر خیال کو شعریت کے شہد میں ڈبو کر وجودیاب کیا ہے اور جو اسلوب اپنایا ہے وہ جدت سے بعد اور کلاسیکیت سے قرب پہ مائل ہے اس میں مختلف عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں
اس کی روز افزوں شہرت ممکن ہے اسے وہ شعر کہنے پہ مجبور کر رہی ہو جو عوامی رنگ لئے ہوئے ہوں اور مضامین بڑھکیلے ہوں جنہیں مشاعروں میں سننے والے فوری اس کے سحر میں چلے جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر کا اپنا شعری رجحان ہی بدل چکا ہو اور اس نے شعور کی تمام تر حسوں کو بیدار کرتے ہوئے ایسی غزلوں کا انتخاب کیا جو قاری کو ایک سی۔ کیفیت سے دوچار کرے اور پھر وہ ابتدا سے انتہا تک اسی میں گرفتار رہے
خوابشار میں موجود اشعار لذت پزیری کے تمام اجزا لئے ہوئے ہیں حسن و عشق کے معاملات بہت سلیقے سے بیان کئے گئے ہیں ہجر و وصال کے اظہار کا قرینہ بھی موجود ہے رائیگانی کا ادراک اور رائگاں ہوجانےکےبعد کا احساس بھی شدید تر ہے انا پرستی اور اس کے نتیجہ میں تعلقات اٹھتی دیواریں بھی نظر آتی ہیں گویا خوابشار انسانی جذبات و احساسات سے متعلق تو ہے اور نفسیاتی مسائل پی بھی ہلکے پھلکے فلسفیانہ رنگ میں اظہار ملتا ہے جس میں کہیں تشکیک تو کہیں تشویش نظر آتی ہے خوابشار اپنی جگہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے جو خواب و خواہشات کی مہک سے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رہا ہے ۔
شہزاد نیر امکانات سے بھرا ہوا تخلیق کار ہے جس میں اظہار کا وفور موجود ہے جسے بات کہنے کا سلیقہ ہے جس میں اشیا کی ماہیت تک جانے کی صلاحیت ہے اور پھر اس سے نتائج اخذ کرنے پہ بھی دسترس ہے اس لئے امید کی ڈوری سے بندھا ہوا ہوں کہ آئندہ ان کی آنے والی کتب مذید کامیابیوں سے ہمکنار ہوں گی اور قارئین کے لئے نئے جہان کھوج کر لائیں گی اس کتاب پر اس کی اشاعت اور کامیابی پر شہزاد نیر کو بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ مولا توفیقات میں مذید اضافہ فرمائے اب کچھ اشعار خوابشار سے نظرِ قارئین

پھینکی جاتی بھی نہیں راہ میں یادیں اس کی
اور یہ بوجھ اٹھایا بھی نہیں جا سکتا

ہوتے ہوتے وہ مجھے عشق نگر کے ہی گیا
میں نے سو بار بتایا بھی، نہیں جا سکتا

زندہ ہونا کچھ اور ہوتا ہے
سانس لیتے ہیں سو لئے جائیں

سینکڑوں آنسوؤں کی قیمت پر
خواب بس ایک دو لئے جائیں

کلام کر کہ مرے لفظ کو سہولت ہو
ترا سکوت مری گفتگو محال کرے

جا بہ جا خون کے چھینٹے ہیں ہمارے گھر میں
کون سا ورد کرائیں کہ بلائیں جائیں
اس شعر کو اپنے گھر کی سطح سے اٹھ کر ملکی اور پھر عالمی سطح پہ دیکھیں یہ ہر جگہ اپنی حیثیت منواتا نظر آئے گا

وڈیو میں جو دیکھا تو وہی وقت وہی تو
اب کیسے کیوں گزرے زمانے نہیں آتے

دوریوں کا زہر تھا پھیلا ہوا
جس کو نیلا آسمان جانا گیا

اٹھائے تو کون اٹھائے گا بوجھ احساں کا
مجھے اٹھانے کی زحمت نہ مرے یار اٹھا

سب اہلِ ہوش تو بیٹھے ہی رہ گئے لیکن
ںقابِ چراغ اٹھانے کو نے گسار اٹھا

وہ دست غیب مجھے تو دکھائی تک نہ دیا
وہ کون لوگ تھے جن کو ترا سہارا تھا

تمھارے عدل کی منت گزار آنکھ نہ تھی
بس ایک خواب تھا جس پر مرا گزارہ تھا

کس کی مانوں کہ سب یقیں والے
اپنے اپنے گماں سے کہتے ہیں

نام بس گرمیِ بازار کا بدنام ہوا
خواب تو چشمِ خریدار میں کھو جاتے ہیں

افلاک کے نیر جو نہیں دیکھتا نیر
سب نور اسے زیرہ جمالوں سے ملا ہے

نیر میں لفظ لفظ میں تقسیم ہو گیا
اک ہو کے بے شمار میں رہنا پڑا مجھے
تفصیلی جائزہ بشرط زندگی پھر کبھی پیش کروں گا اور شہزاد کی تمام کتب کا فنی اور تنقیدی جائزہ پیش کروں گا ابھی کے لئے تنا ہی اس دعا کے ساتھ کہ مولا مذید کامیابیوں سے ہمکنار کرے
شاہد فیروز.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں