97

*تین تولہ ہے ایک ماشہ ہے حسن، ترتیب سے تراشا ہے*

Spread the love

غزل

تین تولہ ہے ایک ماشہ ہے
حسن، ترتیب سے تراشا ہے
*
ان دنوں اورکوئی کام نہیں
عشق ہے اور بے تحاشا ہے
*
ایک تختے میں بھی ہوئی حرکت
ایک رسہ بھی ارتعاشا ہے
*
کون ڈھب کی مٹھاس میں ہو گم!
کون سے رنگ کا بتاشا ہے
*
تھیلیوں کی گرہ نہیں کھلتی
پھونک، انکار کا تماشا ہے
*
فرزاد علی زیرک

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں