37

چاہتا کیا ہے اب عدو دریا راستہ ناپ اپنا تو __دریا

Spread the love

چاہتا کیا ہے اب عدو دریا
راستہ ناپ اپنا تو __دریا

بھوکی پیاسی ہوں ایک جنت میں
اور ہے میرے چار سو__ دریا

میں کسی دشت کی تلاش میں ہوں
اور ہے میرے دو بدو __ دریا

تو نے گرنا ہے آخرش مجھ میں
میں سمندر ہوں تو __ دریا

میں تو پیاسی ہی لوٹ جاوں گی
دیکھنا ! اپنی ابرو ___ دریا

اسکی آنکھوں کے نام ہیں سعدی
جھیل ، تالاب ، آبجو ___ دریا

سعدیہ صفدر سعدی

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں