59

آپ دل جوئی کی زحمت نہ اٹھائیں، جائیں رو کے بیٹھا ھوں نہ اب اور رُلائیں ، جائیں

Spread the love

غزل

آپ دل جوئی کی زحمت نہ اٹھائیں، جائیں
رو کے بیٹھا ھوں نہ اب اور رُلائیں ، جائیں

مجھ سے کیا ملنا کہ میں خود سے جُدا بیٹھا ھوں
آپ آجائیں ، مجھے مجھ سے ملائیں، جائیں

حجرہ ء چشم تو اوروں کے لئے بند کیا
آپ تو مالک و مختار ہیں آئیں، جائیں

اتنا سانسوں سے خفا ھوں کہ نہیں مانوں گا
لوگ رو رو کے نہ اب مجھ کو منائیں ، جائیں

زندگی تو نے دُکاں کھول کے لکھ رکھا ھے
اپنے حصے کا کوئی رنج اٹھائیں ، جائیں

جا بہ جا خون کے چھینٹے ہیں ھمارے گھر میں
کون سا ورد کرا ئیں کہ بلائیں ، جائیں

اور بھی آئے تھے درمان ِمحبت لے کر
آپ بھی آئیں کوئی زخم لگائیں ، جائیں

آمد و رفت کو دنیائیں پڑی ھے نیر
دل کی بستی کو نہ بازار بنائیں ، جائیں

شہزاد نٌیر…

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں