45

روز و شب ہاٸے ہاٸے گریہ ہے یعنی گریہ براٸے گریہ ہے

Spread the love

غزل

روز و شب ہاٸے ہاٸے گریہ ہے
یعنی گریہ براٸے گریہ ہے

میرے ہمساٸے میں رہا ہو گا
جو کوٸی آشناٸے گریہ ہے

پھول کانٹں میں اور بشاشت واہ
مسکراہٹ بجاٸے گریہ ہے

دیکھ پچھلے پہر کا سناٹا
اس میں شامل صداٸے گریہ ہے

درد عرفان کا سمجھ اے دوست
وہ اگر مسکراٸے گریہ ہے

عرفان اللہ عرفان

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں