98

شہباز شریف نے وزیر اعلی کی حیثیت سے اختیارات کا غلط استعمال کیا: نیب

Spread the love

قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں جمعے کو گرفتار کر لیا۔ نیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے وزیر اعلی کی حیثیت سے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
شہباز شریف کی گرفتاری جمعے کو اس وقت عمل میں آئی جب وہ لاہور میں احتساب بیورو کے دفتر میں صاف پانی سکینڈل کے سلسلے میں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آئے تھے۔
نیب نے شہباز شریف کی گرفتاری کی وجوہات کے حوالے سے جمعے کی رات ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔

شہباز شریف کی گرفتاری کی وجوہات
جمعے کی رات جاری کیے والے اعلامیے کے مطابق
شہباز شریف نے پنجاب لینڈ ڈویلپمینٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے اختیار حاصل کیے۔
شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی کو غیر قانونی طور پر کہا کہ آشیانہ منصوبہ ایل ڈی اے کو دیا جائے۔
شہباز شریف نے غیر قانونی طور پر پراجیکٹ ایل ڈی اے کو ٹرانسفر کیا۔
شہباز شریف کے قریبی ساتھی احد چیمہ اس وقت ایل ڈی اے کی سربراہی کر رہے تھے۔
لطیف اینڈ سنز کمپنی کا کنٹریکٹ غیر قانونی طور پر منسوخ کیا گیا۔
ملزم نے مبینہ طور پر من پسند کمپنی کو غیر قانونی منافع دینے کے لیے ٹھیکہ منسوخ کروایا۔
شہباز شریف نے وزیر اعلی کی حیثیت سے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔
شریک ملزم احد چیمہ نے ملی بھگت سے سے آشیانہ اقبال کے ٹھیکے کی منقتلی کے لیے غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔
اسی طرح پبلک پارٹنرشپ کے تحت ٹھیکہ منظور نظر بسم اللہ انجنیئرنگ کو دیا گیا۔
بسم اللہ انجنیئرنگ پیراگون کی پراکسی کمپنی تھی۔
پنجاب لینڈ ڈویلپمینٹ کمپنی صوبے میں ایسے پراجیکٹ کے لیے خاص طور پر بنائی گئی تھی۔
شہباز شریف کے اس اقدام سے قومی خزانے کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
شہاز شریف کا یہ اقدام غیر قانونی اور بد نیتی پر مبنی تھا۔
خیال رہے کہ شہباز شریف اس وقت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں اور قوانین کے تحت ان کی باضابطہ گرفتاری کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سے بھی رابطہ کیا گیا۔
قانون کے تحت قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی گرفتاری کی صورت میں سپیکر کو اطلاع دی جانی ضروری ہے۔
گرفتاری کے بعد شہباز شریف کو لاہور میں نیب کے دفتر میں ہی رکھا گیا ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہےآ
پنجاب کے وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن نے شہباز شریف کی گرفتاری پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کی امید ہے کہ بددیانت لوگوں کے خلاف مہم چلائی جائے‘۔
ان کا کہنا تھا ’انھوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ یہ تو آغاز ہے، اس کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ہیں جن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ ‘
انھوں نے مزید کہا ’شہباز شریف کے الفاظ ہیں کہ میری مرضی کے بغیر کسی کی ٹرانسفر نہیں ہو سکتی۔ میرے بغیر پنجاب میں کچھ نہیں ہو سکتا، اس لیے انھی کو مجرم ٹھہرایا جائے گا۔‘
دوسری جانب چند ماہرین شہباز شریف کو حراست میں لیے جانے کے فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف حکومت کی جانب سے دھیان بٹانے کا قدم قرار دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں