76

اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں کیا ترے دل میں واقعی ہوں میں

Spread the love

غزل

اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں
کیا ترے دل میں واقعی ہوں میں

شہر ۔ مفتوحہ ،، دیکھ حسرت سے
تجھکو سرحد سے دیکھتی ہوں میں

مفلسی دیکھتی ہے کیا ایسے
تیری تصویر بھی رہی ہوں میں

وقت ۔۔ آخر میں ملنے والے شخص
تجھکو صدیوں سے جانتی ہوں میں

میرے ماتھے کی شکنیں جانتی ہیں
کس قدر تجھکو سوچتی ہوں میں

رتجگوں سے بھرے ہوئے آے شخص
تیری آنکھوں میں جاگتی ہوں میں

بلقیس خان

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں