53

جسم ٹکڑوں میں بٹ گیا ہو گا آخرش بوجھ گھٹ گیا ہو گا

Spread the love

غزل

جسم ٹکڑوں میں بٹ گیا ہو گا
آخرش بوجھ گھٹ گیا ہو گا

اک پرندے نے بے گھری بھگتی
اک ہرا پیڑ کٹ گیا ہو گا

شہر میں آیا اور ملا بھی نہیں
دل اذیت سے پھٹ گیا ہو گا

آسماں سے زمیں نہیں ملتی
فاصلہ تھا, سمٹ گیا ہو گا

وصل حیرت سے دیکھتا کیا ہے
ہجر کاسہ الٹ گیا ہو گا

نیند آنکھوں میں رقص کرتی ہے
خواب رستے سے ہٹ گیا ہو گا

صبحِ ضوریز تیرے پاؤں سے
شب کا سایہ لپٹ گیا ہو گا

فرح خان

کیٹاگری میں : غزل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں