46

ڈولفن فورس اور احترام انسانیت

Spread the love

کچھ دِن پہلے کی بات ہے میں نے لاہور کی سڑکوں پر ڈولفن پولیس کی پھرتیاں دیکھیں تو خوشی ہوئی کہ یہ فورس بر وقت کاروائی کرتی ہے اور گلیوں محلوں میں بھی ڈیوٹی کرتی نظر آتی ہے ۔
ایک موٹر سائیکل پر دو ملازمین سوا ر ، اسلحہ سے لیس اور رنگ برنگی لائٹوں کو جلائے ہوئے اپنی خدمات سر انجام دیتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش میں سر گرم عمل ہیں ، ڈولفن فورس کے حوالے سے معلومات لیں تو پتا چلا کہ ان کی موٹر سائیکل پر لگی ہوئیں رنگ برنگی لائٹیں ہی بہتر ہیں اگر ان کی ڈیوٹی اور اِن کے کام کو دیکھیں گے تو سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے ، میں نے ایسی معلومات دینے والوں سے بحث کی کہ ایسا نہیں ہے تو جواب ملا کہ وہم کا کوئی علاج نہیں ، ایک دن حقیقت خود ہی عیاں ہو جائے گی ۔اس سے پہلے کی حقیقت خود عیاں ہو تی میں نے ڈولفن کی معلومات از خود اکھٹی کرنا شروع کر دیں ۔

لاہور میں سٹریٹ کرائمز کے سدباب کے لیے ترکی کی طرز پر ایک نئی ’ڈولفن فورس‘ متعارف کرائی گئی ۔ سات سو اہل کاروں اور تین سو جدیدہیوی بائیکس پر مشتمل پہلے بیج نے تربیت مکمل کی اور لاہور کی سڑکوں پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف برسر پیکار ہوگئی۔ جرائم اور دہشت گردی کے خلاف اس سے پہلے پنجاب پولیس کے علاوہ ایلیٹ فورس، انسداد دہشت گردی پولیس، کوئیک ریسپانس فورس، پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ اور محافظ فورس کام کر رہی تھیں۔ماضی میں سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے شاہین فورس اورمجاہد سکواڈ بھی قائم کی گئی تھیں لیکن شاہین فورس ختم ہوگئی جب کہ ڈولفن فورس نے مجاہد سکواڈ کی جگہ لے لی ۔پنجاب کی سابقہ حکومت نے ڈولفن فورس کے قیام کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور فورس کی تربیت میں تعاون پر ترکحکومتک باقاعدہ ا شکریہ ادا کیا۔ترکی سے متاثر ہوکر تشکیل دی جانے والی ڈولفن فورس کے لیے حکومت پنجاب نے تقریباً 12 ارب روپے مختص کیے ۔ ڈولفن فورس نے ابتدائی طور پر لاہور میں اپنا کام شروع کیا لیکن اب اس کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیلا یا جا رہا ہے۔
لاہور میں اس فورس کے پہلے انچارج ایس ایس پی کرار حسین سیدتھے جو سٹریٹ کرائمز کے خاتمے اور ڈولفن فورس کے انتظامات کو دیکھنے کے لئے خصوصی طور پر ترکی سے ٹریننگ حاصل کر کے آئے تھے ، 13 لاکھ روپے مالیت کی 500 سی سی موٹرسائیکل پر گشت کرنے والے اس فورس کے اہلکاروں کی یونیفارم بھی خصوصی طور پر تیار کی گئی ، انھیں جدید اسلحہ اور جدید یورپی سکیورٹی آلات سے لیس کیا گیا ۔

ان کے ہیلمٹ میں جدید مواصلاتی نظام اور کیمرے نصب کیے گئے ۔ ڈولفن فورس کا ریسپانس ٹائم پانچ منٹ رکھا گیا۔ ڈولفن فورس کو شہر کے مختلف علاقوں میں صرف سٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لئے بنایا گیا ، یہ فورس کسی تھانے کے ماتحت نہیں ہے اور نہ ہی ان کو کسی جلسے، جلوس یا کسی کی سکیورٹی پر مامور کیا جا سکتا ہے ۔دوسری طرف 1998 میں قائم کی گئی ایلیٹ فورس کے زیادہ تر اہلکار کرائمز کے خاتمے کی بجائے وی وی آئی پیز کی سکیورٹی پر تعینات رہتے تھے ۔
جب تک ایس پی سید کرار حسین جو آج کل ڈی پی او میانوالی ہیں ڈولفن سمیت پولیس کی چار فائٹرز فورسز کے بیک وقت انچارج رہے تو تب تک ڈولفن فورس نے بہترین کام کیا ، لیکن ان کے تبدیل ہوتے ہی یہ فورس اپنی من مانیاں کرنے پر اُتر آئی اور کئی وارداتوں میں خود بھی ملوث پائی گئی جن میں نئے ہنڈا موٹر سائیکلوں کی چوریاں تک شامل ہیں اور یہ مسروقہ مال برامد بھی ہوا ۔

کرار حسین سید کے دور میں ڈولفن فورس نوجوانوں کو تنگ نہیں کرتی تھی اور نہ بلا وجہ تلاشی اور ناکے لگائے جاتے تھے ، اب یہی فورس سٹریٹ کرائم کی روک تھام کی بجائے بڑی سڑکوں پر ناکے لگاتی ہے اور شہریوں کو تنگ کرنے میں پیش پیش ہے ، میں نے اپنی آنکھوں سے ڈولفن کے ملازمین کو شہریوں کی تلاشی لیتے دیکھا تو دنگ رہ گیا کہ پاکستان کی کوئی فورس اپنے ہی شہریوں کے ساتھ اس طرح کا انسانیت سوز سلوک بھی کر سکتی ہے ۔
بیچ چوراہے پر ڈولفن فورس کے ملازمین خود ساختہ ناکہ لگائے ہوئے ہیں اور صرف موٹر سائیکل سواروں کو چیک کیا جا رہا ہے ، موٹر سائیکل سوار کو بائیک سے اترنے کا اشارہ ہوتا ہے ، جب وہ سوار بائیک سے اتر جاتا ہے تو اُسے کہا جاتا ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی گردن کے گردن لپیٹ لے اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ جائے ، وہ موٹر سائیکل سوار بیچارا گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے اور ملازمین اُس کی تلاشی لیتے ہیں ،آتے جاتے لوگ اُس گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے پاکستانی کی تذلیل ہوتے سر عام دیکھتے ہیں ، یہی نہیں ڈولفن فورس کے ملازمین گلیوں میں داخل ہوتے وقت اپنی بائیکس پر جلنے والی لائٹس بند کر لیتے ہیں اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو سیر کرتے ہوئے چیک کرتے ہیں انہیں ڈرا دھمکا کر پیسے بٹورتے ہیں اور پھر انہیں خطر ناک نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے چھوڑ دیا جاتا ہے ، راہ گیروں کو روک کر اُن کا منہ سونگھنا ، اُن کی جیبوں کی تلاشی لینا ڈولفن فورس کا معمول بن چکا ہے ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ڈولفن فورس نے گلیوں سے نکل کر کھلی سڑکوں تک اپنی ڈیوٹی کا دائرہ کار از خود ہی بڑھا لیا ہے ۔

اس صورت حال میں کچھ سوالات نے جنم لیا ہے وہ یہ کہ ڈولفن فورس کو گلیوں سے نکال کر کھلی سڑکوں پر ناکے لگانے اور بلا وجہ لوگوں کی تلاشی کا اختیار کس نے دیا ہے ؟ کیا ڈولفن فورس کے موجودہ انچارج ملک ندیم کھوکھراپنی ماتحت فورس کی ان کارستانیوں سے بے خبر ہیں ؟آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور ڈولفن فورس کی ایسی انسانیت سوز حرکتوں کی فوٹیج آئے روز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہیں ۔
یعنی یہ کہنا کہ ڈولفن فورس ایسا نہیں کرتی یا اس فورس کو بدنام کیا جا رہا ہے تو سوشل میڈیا پر چلنے والے فوٹیج حقیقت بیاں کرنے کے لئے کافی ہیں ، ڈولفن فورس کے موجودہ ا نچارج کو چاہیئے کہ وہ اپنے ملازمین کو پاکستانی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کا لیکچر دیں ورنہ یہ ملازمین شہریوں کے لئے وبال جان بنتے جائیں گے ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے پولیس اصلاحات ناصر درانی کو پولیس کی اصلاحات لکھتے وقت ڈولفن فورس کے لئے احترام انسانیت کا ایک باب ضرور تحریر کرنا ہوگا ۔یا ایسا کر لیں تو بہتر ہوگا کہ اس فورس کو ایک بار پھر سے کرار حسین سید کے سپرد کر دیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں