34

ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟ ایسی معلومات جن سے ہر کسی کو آگاہ ہونا چاہئ

Spread the love

سوشل میڈیا کا یہ احسان سونے میں تولے جانے کے قابل ہے کہ اس نے بہت کم عرصے میں صدیوں کی جہالت کومات دے دی ہے اور شعور و آگاہی کے بند دروازوں کو ہر خاص و عام پر کھول دیا ہے ۔دنیا میں کہیں بھی ذرا سا پتہ بھی کھڑکے ،سوشل میڈیا کے کان کھڑے ہوجاتے اور پھر اس کھڑاک کی ساری تفصیلات سامنے بھی آجاتی ہیں ،گویا آگاہی میں انسانوں کی بھلائی کا ایسا پہلو پوشیدہ ہے جس پر عمل کرکے ہر طرح کے نقصانات سے بچنے کی تدابیر کی جاسکتی ہیں ۔جیسا کہ ان دنوں پاکستان اور بھارت میں جنگ کی دھمکیوں کا سیزن شروع ہوگیا ہے تو یہ بات سبھی کے پیش نظر ہے کہ دونوں ملک ایٹمی قوتوں سے مالا مال ہیں ۔اپنی جیت کی خاطر کوئی بھی ملک سب سے پہلے ایٹمی بٹن دبا سکتا ہے یا اسکے میزائل اسکی سرحدوں میں ایٹمی تباہی پھیلا سکتے ہیں ۔یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ سنگین ترین حقیقت ہے کہ ناگا ساکی اور ہیروشیما کے بعد بغداد سے افغانستان تک ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا جاچکا ہے ۔نہ صرف مروجہ ایٹم بم بلکہ ڈرٹی بم کے نام سے چھوٹے ایٹم بموں کے حوالہ سے بھی یہ خطرہ ظاہر کیا جاچکا ہے کہ کئی ملکوں کی افواج کے علاوہ دہشت گرد تنظیموں کے پاس بھی یہ بم موجود ہیں جو کسی بڑے جنگی خطرے میں انہیں استعمال کرسکتے ہیں ۔یا محض دہشت گردی کے لئے کسی بڑے شہر کو نشانہ بناسکتے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے پھیلنے والی تباہی اور تابکاری سے انسانوں کو کیسے بچایا جاسکتا ہے ؟ یہ معمولی کام نہیں ۔اس میں جدید اور تیز ترین تعمیراتی انفراسٹرکچر کی ضرورت درپیش ہوگی لیکن دنیا میں ایٹمی ٹیکنالوجی رکھنے ولاے کتنے ملکوں میں اپنے شہریوں کو بچانے کے لئے ایسی تربیت اور سازو سامان موجود ہے ؟ ایٹمی تابکاری سے کھلے مکانوں میں رہنے والے نہیں بچ پاتے ،جبکہ اس کے لئے دس فٹ سے زیادہ گہرے دوہری تہری دیواروں سے بنے محفوظ ترین تہہ خانوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں تک تابکاری نہ پہنچ سکے ۔اسکی تعمیر اور مکمل طور پر آگاہی سے کتنی قومیں آگاہ ہیں؟ یقینی طور پر پاکستان اور بھارت کی اقوام اس بارے میں بھرپور رہ نمائی سے محروم ہیں۔
مجھے یاد ہے اس حوالہ سے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر سلطان بشیر محمودجو کہ ایٹمی پروگرام کے اوّلین معماروں میں سے ہیں، انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب ”کیمیائی،بیکٹیریائی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی سے بچاﺅ کی حفاظتی تدابیر“ لکھ رکھی ہے جس کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔یہ موضوع پاکستان کی حد تک پہلا ایسا کام ہے جسے نصاب تعلیم کا حصہ بنادیناچاہئے تاکہ نسلوں تک ایٹمی تابکاری اور حملے سے بچاو کا طریقہ سب کو معلوم ہوتا رہے۔ ایسی جامع معلومات کی بنا پر بھاری تعداد میں انسانوں کو ہلاکت سے بچایا جاسکتا ہے اور اہم ترین بات یہ کہ گھروں کی تعمیر کے تصورات بھی تبدیل ہوجائیں گے ۔ہم ہمارے ہاں بلند ترین عمارتیں قائم کرنے کا جنون ہے اور اس انداز تعمیر کو سراہا جاتا ہے ،جبکہ ایٹمی جنگ میں بلند عمارتیں خش و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گیں البتہ زمین دوز عمارتوں میں زندگی محفوظ رہنے کا امکان زیادہ ہے ۔

جیسا کہ عرض کیا کہ سوشل میڈیا آگاہی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے تو زیر نظر موضوع کی مناسبت سے ان دنوں ایٹمی تباہ کاریوں سے بچاو کے لئے بھی ایسے معلوماتی مضمون گردش کررہے ہیں جن میں تابکاری سے بچنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔مجھے بھی وٹس ایپ میں ایسا معلوماتی مضمون ملا ہے جس کے مصنف کا تو علم نہیں البتہ یہ میسج اتنا جامع ہے کہ اسکو صدقہ جاریہ سمجھ کر آپ سے شئیر کیا جائے تو اسکے مصنف کو یقینی اسکا اجر نصیب ہوگا اور اسکا مقصد بھی پورا ہوگا ۔اس مضمون میں جو معلومات دی گئی ہیں ،آپ بھی انہیں پڑھیں اور اپنے احباب تک پہنچائیں تاکہ آگاہی کا سلسلہ جاری رہے ۔
مضمون نگار لکھتا ہے کہ آج کے دور میں انسان کو جس سب سے خوفناک غیر فطری آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. وه ہے ایک ایٹمی حملہ.

اگر آپ کے شہر پر ایٹم بم گرا دیا جائے. تو بھی آپ زنده بچ سکتے ہیں. دنیا میں اس وقت 20000 کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں.
جن ممالک میں ایٹمی حملے کا خطر سب سے زیاده ہے وه یہ ہیں،جنوبی کوریا،شمالی کوریا،پاکستان،انڈیا ،اسرائیل،ایران،اس کے علاوه روس و امریکہ بهی ایٹمی جنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں.دارالحکومت، اہم فوجی چھا ونیاں، اہم شہر اور زیاده آبادی والے علاقے ایٹمی حملوں کا اولین نشانہ ہیں.

‏حالات پر نظر رکھیں:
ایٹمی حملہ جنگ میں ہمیشہ آخری آپشن ہوتا ہے. اپنے ملک اور بین الاقوامی معاملات سے خود کو باخبر رکھیں اور کسی جنگ کی صورت میں پیشگی تدابیر تیار رکھیں.
پناه گاه:
آپ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچ سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک مضبوط اور محفوظ پناه گاه موجود ہو.بہترین پناه گاه زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہوگی. زمین پر بھی پناه گاه بنائی جاسکتی ہے تاہم وه تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گی، زمین پر بنائی جانے والی پناه گاه عمارتی پتھروں سے بنائی جانی چاہیے اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ کا استعمال کرنا ہوتو پهر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم 5 پرتیں لگائی جائیں.
سامان:
اپنی پناه گاه میں اتنا سامان ہمہ وقت سٹور رکهیں جو3,2 ہفتوں کے لیے کافی ہو،
سامان کی تفصیل:
‏1- ٹن پیک کھانا جس میں گوشت کا کوئی آئیٹم شامل نا ہو بلکہ سبزیاں ، پھل اور بینز وغیره ہوں تاکہ فوڈ پوائزننگ کی اضافی مصیبت سے بچا جاسکے.
‏2- ڈسٹلڈ یا منرل واٹر کی بوتلیں.
‏3-پانی کا ایک بڑا ٹینک جو نہانے وغیره کے کام آئے گا.
4- ایک ریڈیو.(آپ کا موبائل تابکاری کے پہلے جھٹکےے کے بعد ناکاره ہوجائے گا).
‏5-کپڑوں کا ایک اضافی جوڑا.
6- کتابیں، جو کئی دن زیر زمین گزارنے میں معاون ثابت ہونگی.
‏7- فرسٹ ایڈ کٹ.
‏8- ادویات جن میں بخار، سردرد، جسم درد کی گولیاں، سلیپنگ پلز
9-بیٹریز یا بجلی کا متبادل انتظام،ٹارچ،پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں،‏(دھماکے کے اول دن استعمال کریں)پینسلین پوٹاشیم،سیفیٹک اینٹی-سیپٹک سپرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں